Problems In Foreign Life
* پردیس کا خون * جو بندہ پردیس جانے کا سوچتا ہے تو سب سے پہلے اسے کم سے کم 3,4 لاکھ کا بندوبست کرنا ہے... اگر پاس رقم نہیں تو پھر دوسرا راستہ قرض کا اختیار کیا جاتا ہے. امید لے کر کسی اپنے کے پاس جایا جاتا ہے لیکن اکثر انکار کا منہ دیکھنا پڑتا ہے... قرض نہ ملے تو پھر تیسرا حل زمین بیچ کر یا گائے بھینس بیچ کر پردیس کا پھندہ خریدا جاتا ہے... پردیس میں جا کر کفیل کی دم پکڑنی لازم ہے وگرنہ آپ پانچ منٹ پردیس میں نہیں رہ سکتے... دوسرا سولی کا پھندہ کمپنی کنٹریکٹ ہے کہ تین یا دو سال تک کسی بھی صورت گھر جانے کا سوچنا بھی نہیں ہوگا... کوئی اپنا مرتا ہے تو مر جائے رو دھو کر چپ کر جانا ہے لیکن گھر جانے کا نہیں سوچنا... اکثر پردیسی اپنے گھر کی موت میں بھی شریک نہیں ہو پاتے... پھر ساری عمر سینے پر احساسِ زیاں کا بوجھ لے کر جینا پڑتا ہے... ہم نے کتنے اپنوں کو آنکھوں سے دیکھا کہ اپنی ماں اپنے باپ اپنی بیوی اپنی اولاد کا جنازہ بھی نصیب نہ ہوا.... ................................................................................. پہلے...
Comments
Post a Comment